ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / غیر ملکی ٹربیونل کے کام کاج کی کمی کو لے کر سپریم کورٹ کی آسام حکومت پرزبردست پھٹکار

غیر ملکی ٹربیونل کے کام کاج کی کمی کو لے کر سپریم کورٹ کی آسام حکومت پرزبردست پھٹکار

Wed, 13 Mar 2019 23:49:30    S.O. News Service

نئی دہلی،13 مارچ(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) سپریم کورٹ نے آسام میں ملازم غیر ملکی ٹربیونل کے ناکافی ہونے کے معاملے میں ریاستی حکومت کو بدھ کو آڑے ہاتھوں لیا اور اسے 27 مارچ تک اس سلسلے میں حلف نامے پر تفصیلی وضاحت دائر کرنے کی ہدایت دی۔

چیف جسٹس رنجن گوگوئی، جسٹس دیپک گپتا اور جسٹس سنجیو کھنہ کی بنچ کو آسام حکومت نے مطلع کیا کہ گزشتہ دس سال میں غیر ملکی ٹریبونل نے 50000 سے زیادہ شہریوں کو غیر ملکی قرار دیا ہے۔آسام حکومت کی جانب سے سالسٹر جنرل تشار مہتہ نے کہا کہ ریاست کے 6 حراست کیمپوں میں قریب 900 لوگوں کو رکھا گیا ہے۔

بنچ نے کہا کہ ریاستی حکومت کو حلف نامے میں واضح طور پر بتانا ہوگا کہ کیا ریاست میں ملازم غیر ملکی ٹربیونل کافی ہیں اور وہ کس طرح سے کام کر رہے ہیں۔اس نے کہا کہ اس وقت وہ آسام کے چیف سکریٹری کو انفرادی طور پر پیش ہونے کے لیے زور نہیں دے رہی ہے، لیکن وہ حکومت سے حلف نامے کے ذریعے جاننا چاہتی ہے کہ ریاست میں ملازم غیر ملکی ٹربیونل کافی ہیں یا نہیں۔عدالت وکیل پرشانت بھوشن کے ذریعے کارکن ہرش مڈیر کی طرف سے دائر مفاد عامہ کی عرضی پر سماعت کر رہی تھی۔ان حراست شورو میں بند غیر ملکیوں کی قابل رحم حالت کا ذکر کرتے ہوئے اس درخواست میں الزام لگایا گیا ہے کہ انہیں صرف اس وجہ سے غیر معینہ مدت سے وہاں رکھا گیا ہے کیونکہ وہ ہندوستانی نہیں ہیں۔اس سے پہلے، عرضی پر سماعت کے دوران عدالت نے آسام کے ان کیمپوں میں برسوں سے ہزاروں غیر قانونی تارکین وطن کو غیر انسانی حالت میں رکھے جانے پر تشویش کا اظہار کیا تھا اور کہا تھا کہ انہیں ان کے ملک واپس بھی نہیں بھیجا گیا ہے۔

عدالت نے ان کی حراست کیمپوں کی حالت کے بارے میں ریاستی حکومت سے معلومات مانگی تھی۔کورٹ نے کہا تھا کہ مفاد عامہ کی عرضی کے مطابق ان مراکز کی حیثیت انتہائی خراب ہے۔تشار مہتہ نے سماعت کی پچھلی تاریخ پر بھی کہا تھا کہ ان غیر ملکیوں کو ان کے ملک بھیجنے کا بندوبست تیار کرنے کی ضرورت ہے اور انہیں جلد سے جلد واپس بھیجا جانا چاہیے۔سالسٹر جنرل نے کہا تھا کہ آسام میں ان کیمپوں میں 938 افراد بند ہیں اور ان میں سے 823 کو ٹربیونل نے غیر ملکی قرار دیا ہے۔مرکز نے بھی کہا تھا کہ ہندوستان میں غیر قانونی طریقے سے گھسنے کی کوشش کر رہے 27000 سے زیادہ غیر ملکیوں کو سرحد پر ہی واپس بھگایا جا چکا ہے۔


Share: